گوشت کی بڑھتی طلب کے باعث پنجاب میں بٹیر فارمنگ کا رجحان بڑھنے لگا ہے، ڈاکٹر فیضان رشیدگوشت کی بڑھتی طلب کے باعث پنجاب میں بٹیر فارمنگ کا رجحان بڑھنے لگا ہے، ڈاکٹر فیضان رشید

لاہور۔3 نومبر (اے بی سی):پنجاب میں بٹیر فارمنگ تیزی سے مقبول ہو رہی ہے،لاہور، گوجرانوالہ اور ملتان جیسے بڑے شہری مراکز کے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں بٹیر کے گوشت کی بڑھتی ہوئی طلب کسانوں کو صوبے کے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں بٹیر فارم قائم کرنے کی ترغیب دے رہی ہے۔لاہور کے قریب پتوکی میں بٹیر فارم کے مالک ڈاکٹر فیضان رشید نے کہا کہ بٹیر کے گوشت کو ایک پرتعیش غذا سمجھا جاتا ہے اور یہ زیادہ تر بڑے شہری مراکز میں استعمال ہوتا ہے جہاں لوگوں کی قوت خرید نسبتاً زیادہ ہے، غذائی خصوصیات کے لحاظ سے بٹیر کا گوشت مٹن کے تقریباً برابر ہونے کے باوجود اس کی قیمت بھیڑ کے گوشت کے مقابلے میں تقریباً نصف ہے۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ بٹیر کا گوشت ایک ہزار 450 روپے فی کلوگرام فروخت ہو رہا ہے جبکہ مٹن کی قیمت 2 ہزار 400 روپے فی کلوگرام ہے۔ڈاکٹر فیضان رشید نے کہا کہ روایتی پولٹری فارم کے مقابلے میں بٹیر فارم قائم کرنے کے لئے کم سرمایہ درکار ہوتا ہے جس کی بنیادی وجوہات بٹیر کی افزائش اور پیداوار کا مختصر دورانیہ اور نسبتاً کم جگہ کی ضرورت ہیں۔انہوں نے کہا کہ 100 مربع فٹ کے ایک کمرے میں ایک ہزار تک بٹیر پالے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بٹیر اور روایتی پولٹری کی پرورش کے ابتدائی مراحل جن میں بچوں کو مناسب حرارت فراہم کرنا اور عمومی دیکھ بھال شامل ہے، بڑی حد تک ایک جیسے ہوتے ہیں، ابتدائی چند دنوں میں درجہ حرارت کو قابو میں رکھنا ضروری ہوتا ہے تاہم بیماریوں کے خلاف مزاحمت کے لحاظ سے بٹیر عموماً روایتی پولٹری کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔روایتی پولٹری کے برعکس بعض فارمنگ طریقوں میں بٹیروں کو معمول کے مطابق ویکسین لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی تاہم بیماریوں سے بچاؤ اور جانوروں کے علاج معالجے کی سہولیات اہم رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر بیکٹیریا سے پیدا ہونے والے انفیکشن کے علاج کے لئے اینٹی بائیوٹکس تجویز کی جا سکتی ہیں۔ڈاکٹر فیضان رشید کے مطابق بٹیر فارمنگ میں خوراک مسلسل آنے والے اخراجات کا سب سے بڑا حصہ ہوتی ہے، بٹیر کے ایک بچے کی قیمت تقریباً 17 روپے ہے جبکہ مکمل نشوونما پانے والا بٹیر جسامت اور منڈی کی طلب کے مطابق 70 سے 100 روپے میں فروخت ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بٹیر فارمنگ سے کسانوں کی آمدن کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ پرندوں کی دیکھ بھال کتنی مؤثر انداز میں کرتے ہیں اور پیداواری اخراجات کو کس حد تک قابو میں رکھتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ جاپانی نسل کے بٹیر کے بچے کا پیدائش کے وقت وزن تقریباً 8سے 9گرام ہوتا ہے جو مکمل نشوونما کے بعد تقریباً 100 گرام تک پہنچ سکتا ہے۔ڈاکٹر فیضان رشید نے کہا کہ یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز (یو وی اے ایس)، لاہور کے ایویئن ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر نے بٹیر کی جسامت اور گوشت کی پیداوار بڑھانے کے لئے جمبو بٹیر کی نسل تیار کی ہے۔ان کے مطابق اس اقدام کے نتیجے میں بٹیر کے انڈے کا وزن 9.5 گرام سے بڑھ کر 12 گرام اور ایک دن کے بچے کا وزن 6.5 گرام سے بڑھ کر آٹھ گرام ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 28 دن کی عمر میں بٹیر کا زندہ وزن 100 گرام سے بڑھ کر 200 گرام ہو گیا ہے، اس کے نتیجے میں صفائی کے بعد حاصل ہونے والے گوشت کا وزن بھی 50 گرام سے بڑھ کر 100 گرام ہو گیا ہےتاہم انہوں نے بتایا کہ جمبو نسل کو ابھی تک ہوٹلوں اور ریستورانوں کے مالکان میں وسیع پیمانے پر پذیرائی حاصل نہیں ہوئی کیونکہ وہ عموماً گاہکوں کو پیش کرنے کے لئے چھوٹے بٹیروں کو ترجیح دیتے ہیں۔ڈاکٹر فیضان رشید نے کہا کہ یو وی اے ایس کی تیار کردہ نسل ان صارفین میں مقبول ہے جو بٹیر خرید کر گھروں میں پکاتے ہیں۔پولٹری اور پرندوں کی افزائش کے ماہرین کے مطابق پنجاب میں بٹیر فارمنگ اب بھی ایک ترقی پذیر مخصوص شعبہ ہے جس میں متبادل گوشت کی مصنوعات کی طلب بڑھنے کے ساتھ توسیع کے امکانات موجود ہیں۔پنجاب کے پولٹری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فرحان افضل نے کہا کہ کم جگہ میں پرورش، زمین کی نسبتاً محدود ضرورت، پیداوار کا مختصر دورانیہ اور جلد بالغ ہونے کی خصوصیات بٹیر فارمنگ کو کاروبار کا ایک پُرکشش موقع بناتی ہیں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ طلب میں غیر یقینی صورتحال، قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مستقل خریداروں تک محدود رسائی اس شعبے کی ترقی میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان ممکنہ فوائد کا مطلب یہ نہیں کہ بٹیر فارمنگ سے لازماً منافع حاصل ہوگا، قابل اعتماد خریداروں کی دستیابی، خوراک کے اخراجات، بچوں کا معیار، اموات کی شرح اور فارم کے انتظامی طریقے اس کاروبار کے تجارتی طور پر قابل عمل ہونے کا تعین کرتے ہیں۔ڈاکٹر فرحان افضل نے بتایا کہ محکمہ لائیوسٹاک پنجاب بٹیر فارمنگ کے لئے کسی مخصوص امدادی پروگرام کے بجائے بنیادی طور پر پولٹری کی عمومی تحقیق، توسیعی خدمات، تربیت، جانوروں کی بیماریوں کی تشخیص اور ضابطہ کاری کے ذریعے اس شعبے کی معاونت کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس شعبے کا بنیادی مسئلہ صرف بٹیروں کی افزائش اور پیداوار کی حیاتیاتی صلاحیت نہیں بلکہ غیر یقینی منڈیوں، پیداواری اخراجات، پرندوں کے معیار میں عدم یکسانیت اور پوری سپلائی چین کے غیر ترقی یافتہ ہونے جیسے عوامل کا مجموعہ ہے۔