خیبرپختونخوا میں مصنوعی ذہانت اور شمسی توانائی سے چلنے والے آبپاشی نظام متعارف کرانے کی تجویز، پانی کی 50 فیصد تک بچت کا ہدفخیبرپختونخوا میں مصنوعی ذہانت اور شمسی توانائی سے چلنے والے آبپاشی نظام متعارف کرانے کی تجویز، پانی کی 50 فیصد تک بچت کا ہدف

اسلام آباد۔29اکتوبر (اے بی سی):خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے بھر کے زرعی تحقیقی فارموں میں مصنوعی ذہانت اور شمسی توانائی سے چلنے والے آبپاشی نظام متعارف کرانے کا منصوبہ تجویز کیا ہے جس کے تحت آبپاشی کے لیے پانی کے استعمال میں 30 سے 50 فیصد تک کمی لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویز کے مطابق ’’خیبرپختونخوا کے زرعی تحقیقی فارموں میں پانی ذخیرہ کرنے اور مصنوعی ذہانت پر مبنی شمسی توانائی سے چلنے والے اعلیٰ کارکردگی کے آبپاشی نظام (ڈرپ اور اسپرنکلر)‘‘ کے عنوان سے مجوزہ منصوبے کا بجٹ ایک لاکھ 80 ہزار برطانوی پاؤنڈ رکھا گیا ہے۔دستاویز کے مطابق اس اقدام کا مقصد زیر زمین پانی کی سطح کو بہتر بنانا، آبپاشی کے لیے پانی کا استعمال کم کرنا، شمسی توانائی سے پانی نکالنے کے نظام کو فروغ دینا، فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کرنا اور آبپاشی کے انتظام کے لیے سینسرز اور مصنوعی ذہانت کا استعمال متعارف کرانا ہے۔

منصوبے کے تحت چھ آزمائشی زرعی تحقیقی فارموں کا انتخاب کرنے کی تجویز ہے، جہاں شمسی توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، ڈرپ اوراسپرنکلر آبپاشی کے نظام اور زیر زمین پانی کی مصنوعی طور پر دوبارہ بھرائی کے نظام نصب کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ مٹی، موسم، پانی کے بہاؤ اور دباؤ کی پیمائش کرنے والے سینسرز کے ساتھ انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی)، کلاؤڈ پر مبنی نظام اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے آبپاشی کو کنٹرول کرنے والے آلات متعارف کرانے کی بھی تجویز ہے۔منصوبے پر عمل درآمد کی مجوزہ مدت 18 ماہ ہے، پہلے تین ماہ کے دوران مقامات کا انتخاب، ابتدائی صورتحال کا جائزہ اور نظام کے ڈیزائن کی تیاری کی جائے گی۔

چوتھے سے آٹھویں ماہ کے دوران شمسی توانائی سے چلنے والے آبپاشی نظام اور زیر زمین پانی کی دوبارہ بھرائی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے آلات کی خریداری اور تنصیب کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جبکہ ساتویں سے دسویں ماہ کے دوران سینسرز کی تنصیب اور آئی او ٹی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی کنٹرول نظام کو مربوط کرنے کی تجویز ہے۔اگلے مرحلے میں دسویں سے پندرہویں ماہ کے دوران نظام کو چلانے، کسانوں کی تربیت اور اس کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔

دستاویز میں خیبرپختونخوا کے محکمہ زراعت کو زرعی انجینئرنگ اور کھیتوں میں پانی کے انتظام سے متعلق شعبوں کے ذریعے منصوبے کی سرکاری اور تکنیکی قیادت کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔کسان اور آزمائشی تحقیقی فارم ان نظاموں کی تنصیب اور انہیں چلانے کے لیے سہولیات فراہم کریں گے جبکہ تحقیقی ادارے اور جامعات تکنیکی معاونت اور اعدادوشمار کے تجزیے میں مدد دیں گے۔

ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ادارے شمسی توانائی کے نظام، آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے، سینسرز، مصنوعی ذہانت اور آلات کی دیکھ بھال میں معاونت فراہم کریں گے،اس اقدام کا مقصد کسانوں اور زرعی ماہرین کی جدید آبپاشی نظام کو چلانے اور ان کا انتظام کرنے کی تکنیکی صلاحیت میں اضافہ کرنا بھی ہے۔