Pakistan–SADC Summit Highlights New Opportunities for Trade and Investment Cooperation1

اسلام آباد، 30 اکتوبر 2026: پاکستان اور جنوبی افریقہ ترقیاتی برادری (ساڈک) کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق اجلاس میں کاروباری تعلقات مضبوط بنانے کے نئے مواقع پر بات کی گئی۔ اس میں ایک دوسرے کی منڈیوں تک رسائی آسان بنانے، نئے خریداروں اور سپلائرز کو آپس میں ملانے اور مختلف شعبوں میں کاروباری شراکت داری بڑھانے پر زور دیا گیا۔

یہ اقدام پاکستان ساڈک چیمبر ٹریڈ فیڈریشن (پی ایس سی ٹی ایف)، پاکستان چیپٹر کی جانب سے منعقد کی گئی پہلی افریقہ سفارتی و اقتصادی کانفرنس 2026 کے مقاصد کو آگے بڑھاتا ہے۔ اس سے وابستہ قیادت میں فیڈریشن کے سرپرست اعلیٰ دیوان محمد یوسف فاروقی اور پاکستان چیپٹر کے چیئرمین محمد رفیق میمن شامل ہیں۔

Pakistan–SADC Summit Highlights New Opportunities for Trade and Investment Cooperation
پاکستان–ساڈک سربراہی اجلاس میں تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر گفتگو 4

اجلاس کی پریزنٹیشن میں وزارت تجارت کی سالانہ رپورٹ سے منسوب اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 میں پاکستان اور افریقہ کے درمیان اشیاء کی تجارت 4 ارب 85 کروڑ امریکی ڈالر رہی۔ اس میں پاکستان کی برآمدات 2 ارب 24 کروڑ ڈالر اور درآمدات 2 ارب 61 کروڑ ڈالر رہیں۔ پریزنٹیشن کے مطابق مالی سال 2023-24 میں مجموعی تجارت 5 ارب 45 کروڑ ڈالر رہی تھی۔

گفتگو میں خوراک اور زراعت، ٹیکسٹائل اور ملبوسات، سیمنٹ اور معدنیات، مشینری، بجلی کے آلات، ادویات، طبی اور جراحی کے آلات، چمڑے کی مصنوعات، جوتوں اور کھیلوں کے سامان میں کاروبار بڑھانے کے مواقع کی نشاندہی کی گئی۔ ابتدائی جائزے میں جنوبی افریقہ، مڈغاسکر، تنزانیہ اور موزمبیق کی منڈیوں کو نمایاں کیا گیا، تاہم ہر ملک کے تجارتی اعداد و شمار کی مزید تصدیق ضروری قرار دی گئی۔

Pakistan–SADC Summit Highlights New Opportunities for Trade and Investment Cooperation2
پاکستان–ساڈک سربراہی اجلاس میں تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر گفتگو 5

پریزنٹیشن میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ تجارت دونوں طرف سے بڑھنی چاہیے۔ پاکستان افریقی منڈیوں سے کوئلہ، مائع قدرتی گیس (ایل این جی)، فاسفورک ایسڈ، قدرتی فاسفیٹ اور صاف شدہ تانبے کی کیتھوڈز درآمد کرتا ہے۔ ان شعبوں میں افریقی برآمد کنندگان کے لیے مواقع موجود ہیں، جبکہ پاکستانی تاجر خوراک، ٹیکسٹائل، سیمنٹ، معدنیات اور دیگر اہم مصنوعات کی برآمدات بڑھا سکتے ہیں۔

ان مواقع کو عملی شکل دینے کے لیے 90 دن کا ایک منصوبہ تجویز کیا گیا۔ اس میں تجارتی اعداد و شمار کی تصدیق، متعلقہ خریداروں اور سپلائرز کی فہرستیں تیار کرنا، درآمدی ڈیوٹی اور منڈی میں داخلے کی شرائط کا جائزہ لینا شامل ہے۔ اس کے ساتھ منتخب مصنوعات اور ملکوں کے لیے ابتدائی کاروباری ملاقاتیں کرانے کی بھی تجویز دی گئی۔

اجلاس میں زور دیا گیا کہ درست تجارتی معلومات اور فائدہ مند کاروباری شراکت داری پاکستان اور افریقہ کے درمیان اقتصادی تعلقات بڑھانے کے لیے ضروری ہیں۔ ان اقدامات سے سامان کی فراہمی کا نظام مضبوط بنانے اور ساڈک کے رکن ممالک کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے مزید مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔