اسلام آباد۔ 1 جون (اے بی سی):حکومت نے معدنیات کی تلاش، ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کے فروغ کے لیے پاکستان کونسل برائے سائنسی و صنعتی تحقیق (پی سی ایس آئی آر) لیبارٹریز پشاور میں معدنی وسائل مرکز، تجزیاتی لیبارٹری اور معدنیات کی شناختی سہولت کے قیام کا 97 کروڑ 96 لاکھ 21 ہزار روپے مالیت کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق یہ منصوبہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے تحت پاکستان کونسل برائے سائنسی و صنعتی تحقیق (پی سی ایس آئی آر) کے ذریعے 2026 سے 2028 کے دوران مکمل کیا جائے گا۔
مجوزہ مرکز کا مقصد جدید سائنسی ٹیکنالوجیز اور اعلیٰ معیار کی لیبارٹری سہولیات کے ذریعے معدنیات کی پراسیسنگ اور تجزیاتی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔منصوبے کے دائرہ کار میں خام معدنیات کی بہتری (اور بینیفیشی ایشن)، تجزیاتی خدمات، معدنیات کی شناخت اور کھوج، مقامی معدنی ذخائر کے ارضیاتی سروے اور معدنیات کے استخراج و پراسیسنگ کی جدید ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔دستاویز کے مطابق منصوبے کے تحت آپٹیکل ایمیشن اسپیکٹرو میٹر، ایٹامک ابزورپشن اسپیکٹرو میٹر، ایکس آر ایف اور ایکس رے ڈفریکشن سسٹمز سمیت جدید آلات نصب کیے جائیں گے تاکہ معدنیات کے درست تجزیے اور جانچ کو یقینی بنایا جا سکے۔
منصوبے سے مقامی تکنیکی صلاحیتوں میں اضافہ، معدنی مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن کا فروغ، معدنیات کی تلاش کی سرگرمیوں میں وسعت اور معدنی شعبے میں درآمدی متبادل کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔یہ سہولت مقامی صنعتوں کو مصنوعات کے ڈیزائن، ترقی اور معدنیات پر مبنی مینوفیکچرنگ میں معاونت فراہم کرے گی، جس سے پاکستان کی برآمدی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملے گی۔ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ خیبر پختونخوا میں معدنی تحقیق کے بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور کان کنی و صنعتی شعبوں میں مستقبل کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
