اسلام آباد۔22مئی (اے پی پی):ترجمان محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ پاکستان تقریباً پورے ملک کو ریڈار کوریج میں لانے کے لیے اپنے موسمی ریڈار نیٹ ورک کو وسعت دینے اور جدید بنانے کے عمل میں تیزی لا رہا ہے۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان محکمہ موسمیات کے ترجمان نے کہا کہ محکمہ شدید موسمی حالات، بشمول سیلاب، گرج چمک، شدید بارشوں اور سمندری طوفانوں کی نگرانی کے لیے جدید ریڈار ٹیکنالوجی اختیار کر رہا ہے، تاکہ بروقت پیش گوئیاں اور انتباہات جاری کیے جا سکیں اور انسانی جانوں اور املاک کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت محکمہ اسلام آباد، کراچی، مردان اور سیالکوٹ میں جدید ریڈار نظام چلا رہا ہے، جبکہ جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی کے تعاون سے ملتان میں ایک نیا ریڈار نصب کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جاری منصوبوں کی تکمیل کے بعد پاکستان کے تقریباً تمام بڑے علاقے ریڈار کوریج میں آ جائیں گے، جس سے موسمی پیش گوئی کے عددی ماڈلز اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری آئے گی۔ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد اور کراچی میں محکمہ موسمیات کے ہیڈکوارٹرز پر 13 منزلہ ریڈار ٹاورز پہلے ہی جاپانی مالی معاونت سے تعمیر کیے جا چکے ہیں۔ وہاں نصب ایس بینڈ سالڈ اسٹیٹ ریڈار تقریباً 450 کلومیٹر کے دائرے میں موسمی سرگرمیوں کی نگرانی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ترجمان کے مطابق یہ ریڈار بارش کی شدت، بادلوں کی تشکیل، ہوا کی رفتار، ہوا کی سمت اور طوفان کی حرکت سے متعلق حقیقی وقت کی معلومات فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ نظام ہر 10 منٹ بعد موسمی ڈیٹا اپ ڈیٹ کرتا ہے، جس سے ماہرین کو موسمی نظاموں کی مسلسل نگرانی اور چند گھنٹوں کے وقفے سے انتباہات جاری کرنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریڈار کو "فوری موسمی پیش گوئی” (ناؤ کاسٹنگ) کے ایک اہم ذریعے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور یہ سیلاب کی پیش گوئی، بارش کے تخمینے اور ڈیموں و دریائی کیچمنٹ ایریاز میں پانی کے بہاؤ کی نگرانی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کے ریڈار نیٹ ورک میں ایس بینڈ، سی بینڈ اور ایکس بینڈ سسٹمز شامل ہیں، جنہیں جغرافیائی اور موسمی ضروریات کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔

اسلام آباد اور کراچی کے ایس بینڈ ریڈار 450 کلومیٹر تک کوریج فراہم کرتے ہیں، جبکہ مردان کا ایکس بینڈ ریڈار تقریباً 120 کلومیٹر تک نگرانی کرتا ہے اور وادیوں کے مشاہدے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ سیالکوٹ میں نصب سی بینڈ ریڈار تقریباً 350 کلومیٹر تک کوریج فراہم کرتا ہے اور بھارت کے کیچمنٹ ایریاز سے داخل ہونے والے مون سون سسٹمز کی نگرانی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ کراچی ریڈار بحیرہ عرب میں سمندری موسمی سرگرمیوں اور طوفانی نظاموں کی نگرانی کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں محکمہ کے پاس صرف پانچ ریڈار نظام تھے، جن میں سے کئی پرانے ہو چکے تھے۔ اسلام آباد کا پرانا ریڈار اپنی 30 سالہ مدت مکمل کر چکا تھا، جسے جدید جاپانی معاونت سے نصب نئے نظام سے تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بارش ناپنے والے آلات وسیع علاقوں میں فوری موسمی معلومات فراہم نہیں کر سکتے، جبکہ جدید ریڈار نظام سینکڑوں کلومیٹر تک موسمی صورتحال کی فوری نگرانی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریڈار سے حاصل ہونے والا ڈیٹا ہوائی اڈوں اور ہوا بازی کے اداروں کے ساتھ بھی شیئر کیا جاتا ہے، جہاں محکمہ موسمیات کا عملہ چوبیس گھنٹے موسمی صورتحال کی نگرانی کرتے ہوئے پائلٹس کو ممکنہ خطرات سے متعلق بروقت آگاہ کرتا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ملتان منصوبے اور دیگر شہروں تک توسیع کے بعد پاکستان کی موسمی پیش گوئی اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت مزید مؤثر ہو جائے گی۔