لاہور ۔24مئی (اے پی پی):پاکستان ریلوے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی بڑے پیمانے کی تبدیلی کی جانب پیش رفت کر رہا ہے، جہاں 1700 کلومیٹر فائبر آپٹک نیٹ ورک اور متعدد اسمارٹ ریلوے نظام متعارف کرانے کے منصوبہ کے تحت ملک بھر میں آپریشنز، فریٹ مینجمنٹ اور مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری منصوبہ جاتی دستاویزات کے مطابق یہ اقدام پاکستان ریلوے کے ’’ریلوے ایڈوانس انفراسٹرکچر نیٹ ورک ‘‘ پروگرام کا حصہ ہے، جسے ادارے کی تاریخ کا پہلا بڑا آمدن پر مبنی ڈیجیٹلائزیشن منصوبہ قرار دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد ریلوے آپریشنز کیلئے ایک جامع ڈیجیٹل نظام قائم کرنا اور مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانا ہے۔
منصو بہ کے تحت پاکستان ریلوے 1700 کلومیٹر طویل فائبر آپٹک بیک بون قائم کرے گا۔ اس میں سے تقریباً 700 کلومیٹر فائبر انفراسٹرکچر پاکستان ریلوے کی ملکیت ہوگا جبکہ مزید 1000 کلومیٹر فائبر نیٹ ورک فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت تیار کیا جائے گا۔ اس منصوبے میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے بینڈوڈتھ ٹرانسمیشن بھی شامل ہوگی۔ڈیجیٹل تبدیلی کے اس پروگرام کے تحت پاکستان ریلوے کی 78 سالہ آپریشنل تاریخ میں پہلی مرتبہ مکمل ڈیجیٹل مینی فیسٹ سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا۔ فریٹ آپریشنز کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے سے سامان کی نقل و حرکت کی نگرانی، دستاویزی عمل اور آپریشنل کارکردگی بہتر ہونے کی توقع ہے۔
دستاویزات کے مطابق پاکستان ریلوے انجنوں اور رولنگ اسٹاک کی نگرانی اور انتظامی صلاحیت کو بہتر بنانے کیلئے جی پی ایس پر مبنی ٹریکنگ نظام بھی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ مستقبل کی ضروریات کے مطابق مخصوص ڈیجیٹل سافٹ ویئر ایپلی کیشنز بھی تیار کی جا رہی ہیں تاکہ مختلف نظاموں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔ پروگرام کے پہلے مرحلے میں ٹریکنگ، نگرانی اور انفراسٹرکچر مانیٹرنگ سے متعلق کئی منصوبے شامل ہیں۔منصوبہ جاتی تفصیلات کے مطابق تقریباً 700 ریلوے ٹریکنگ سسٹمز ہیڈ اور ٹیل مانیٹرنگ کیلئے نصب کیے جائیں گے۔ اسی طرح اثاثوں کی نگرانی کیلئے تقریباً 6000 رولنگ اسٹاک ٹریکنگ سسٹمز اور تقریباً 14 ہزار آر ایف آئی ڈی پر مبنی ریلوے ٹیگز بھی نصب کیے جانے کا منصوبہ ہے۔
اس کے علاوہ ریل اور سڑک ویٹ اِن موشن سسٹمز، ورکشاپس اور لوکوموٹیو شیڈز میں آر ایف آئی ڈی چیک پوائنٹس اور ویڈیو وال پر مبنی کنٹرول رومز بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ آپریشنل نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ متعدد منصوبہ جاتی حصوں پر عملدرآمد یا سروے کا عمل پہلے ہی شروع کیا جا چکا ہے۔ڈیجیٹلائزیشن حکمت عملی کے تحت مسافروں کیلئے بھی کئی سہولیات متعارف کرانے کا منصوبہ ہے۔ منتخب مقامات پر عوامی وائی فائی ہاٹ اسپاٹس، اسمارٹ نگرانی کے نظام اور حقیقی وقت میں ایندھن کی نگرانی کرنے والے سینسرز سروس کے معیار اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔
منصوبہ جاتی شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے کے تحت عملدرآمدی سرگرمیاں 2026 کے دوران جاری رہیں گی، جبکہ پاکستان ریلوے بتدریج سروے اور ابتدائی آزمائشی مراحل سے آگے بڑھتے ہوئے اپنے نیٹ ورک میں اسمارٹ نظاموں کی تنصیب اور نفاذ کی جانب پیش رفت کرے گا۔ توقع ہے کہ یہ جدیدکاری اقدام بہتر رابطہ کاری، ڈیٹا پر مبنی فیصلوں اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ریلوے آپریشنز کی بنیاد فراہم کرے گا۔
