مالاکنڈ انفراسٹرکچر پروگرام کے تحت پانچ سماجی شعبے کی سکیمیں مکملمالاکنڈ انفراسٹرکچر پروگرام کے تحت پانچ سماجی شعبے کی سکیمیں مکمل

اسلام آباد۔25اگست (اے بی سی):سعودی عرب کے مالی تعاون سے خیبرپختونخوا میں جاری مالاکنڈ انفراسٹرکچر پروگرام کے تحت سماجی شعبے کی پانچ سکیمیں مکمل کر لی گئی ہیں جبکہ ضلع چترال میں 26 کلومیٹر طویل اہم سڑک کی تعمیر پر کام جاری ہے۔

ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ (ایس ایف ڈی) کے مالی تعاون سے جاری پروگرام کا مقصد خیبر پختونخوا میں متاثرہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور بحالی ہے۔مکمل ہونے والی پانچ سماجی شعبے کی سکیموں میں سوات میں زرعی تحقیقاتی ادارے کی بحالی، خصوصی بچوں کے لیے تعلیمی سہولیات کی تعمیر، بنیادی مرکز صحت کو کیٹیگری ڈی ہسپتال کا درجہ دینا، تھیلے سیمیا ڈیپارٹمنٹ کی تعمیر اور ویٹرنری ریسرچ سینٹر کی بحالی شامل ہیں۔

سوات میں زرعی تحقیقاتی ادارے کی بحالی 19 کروڑ 19 لاکھ 50 ہزار روپے کی منظور شدہ لاگت سے مکمل کی گئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق اس سکیم پر 18 کروڑ 96 لاکھ 70 ہزار روپے خرچ ہوئے اور اس کی فزیکل پیش رفت 100 فیصد ریکارڈ کی گئی۔سوات میں خصوصی بچوں کے سکول اور خصوصی بچوں کے اساتذہ کے تربیتی سکول کی تعمیر بھی 100 فیصد مکمل ہو چکی ہے۔

سکیم کی منظور شدہ لاگت 21 کروڑ 75 لاکھ 50 ہزار روپے تھی، جس میں سے 21 کروڑ 44 لاکھ 40 ہزار روپے خرچ کیے گئے۔لوئر دیر میں بنیادی مرکز صحت حیاسری کو کیٹیگری ڈی ہسپتال میں اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ 62 کروڑ 75 لاکھ 70 ہزار روپے کی منظور شدہ لاگت سے مکمل کیا گیا، جبکہ اس پر 58 کروڑ 45 لاکھ 80 ہزار روپے خرچ ہوئے۔مالاکنڈ کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال بٹ خیلہ میں تھیلے سیمیا ڈیپارٹمنٹ کی تعمیر بھی 100 فیصد مکمل ہو چکی ہے۔

منصوبے کی منظور شدہ لاگت 14 کروڑ 43 لاکھ 50 ہزار روپے تھی، جبکہ اس پر 13 کروڑ 56 لاکھ 40 ہزار روپے خرچ کیے گئے۔اسی طرح سوات میں ویٹرنری ریسرچ سینٹر کی بحالی بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ اس منصوبے کی منظور شدہ لاگت 15 کروڑ 40 لاکھ 90 ہزار روپے تھی، جبکہ اخراجات 13 کروڑ ایک لاکھ 50 ہزار روپے ریکارڈ کیے گئے۔

دستاویزات کے مطابق پانچوں سماجی شعبے کی سکیموں کے لیے کنسلٹنسی سروسز بھی مکمل ہو چکی ہیں۔ اس مد میں 5 کروڑ 88 لاکھ 90 ہزار روپے کی منظور شدہ لاگت کے مقابلے میں 5 کروڑ 57 لاکھ 90 ہزار روپے خرچ کیے گئے۔سماجی شعبے کی ان سکیموں کے علاوہ پروگرام میں ضلع چترال میں 26 کلومیٹر طویل ارندو-کالکٹک/لواری روڈ کی تعمیر بھی شامل ہے۔

سڑک کے اس منصوبے کی منظور شدہ لاگت 2 ارب 90 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے، جبکہ دستاویزات کے مطابق اب تک 39 کروڑ 11 لاکھ 21 ہزار روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔تازہ ترین پیش رفت کے مطابق سڑک کا مشترکہ سروے مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ کراس سیکشن کی تیاری جاری ہے۔ سائٹ اور بیڈ کٹنگ، تعمیراتی سامان کی خریداری اور پتھر کے معیار کی جانچ کا کام بھی جاری ہے۔

مالاکنڈ انفراسٹرکچر پروگرام کے تحت صحت، تعلیم، زراعت اور لائیو اسٹاک سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے ساتھ خطے میں اہم سڑک رابطوں کو بھی ترقی دی جا رہی ہے۔