پاکستان کی پنک سالٹ کی برآمدات 3 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیںپاکستان کی پنک سالٹ کی برآمدات 3 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں

اسلام آباد۔25اگست (اے بی سی):پاکستان کی پنک سالٹ کی برآمدات مالی سال 2026 میں بڑھ کر 3 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ برآمدی حجم ایک لاکھ 48 ہزار ٹن سے تجاوز کر گیا۔

ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق حکومت مصنوعات کی جغرافیائی شناخت، بین الاقوامی پہچان اور ویلیو ایڈیشن کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔ گلابی نمک کی برآمدات مالی سال 2025 میں 3 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2026 میں 3 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہو گئیں جبکہ برآمدی مقدار 127,924 ٹن سے بڑھ کر 148,071 ٹن تک پہنچ گئی۔

دستاویزات میں شامل پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ایم ڈی سی) کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں چٹانی نمک کے تخمینہ ذخائر 6 کروڑ 50 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد ہیں۔ پی ایم ڈی سی کے زیر انتظام ذخائر 3 کروڑ 60 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہیں، جن میں سالٹ رینج کے علاقے کا گلابی چٹانی نمک اور کوہاٹ سالین سیریز کا سرمئی نمک شامل ہے۔ ملک میں نمک کے ذخائر میں خالصیت کی شرح 99 فیصد تک ہے۔حکومت کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ مصنوعات کی پاکستانی جغرافیائی اصل کے ساتھ اس کی شناخت کو مضبوط بنانا ہے۔

عالمی منڈیوں میں عام طور پر ’’ہمالیائی گلابی نمک‘‘ کے نام سے معروف اس نمک کو پاکستان نے اس کی جغرافیائی شناخت کو مضبوط بنانے کے لیے ’’کھیوڑہ پنک راک سالٹ‘‘ کے نام سے رجسٹر اور فروغ دیا ہے۔کھیوڑہ پنک راک سالٹ کو 18 جولائی 2022 کو جغرافیائی اشاریے (جی آئی) کے طور پر رجسٹر کیا گیا تھا اور اس وقت اس کے 17 مجاز صارفین ہیں۔ حکومت نے مصنوعات کی عالمی پہچان بڑھانے کے اقدامات کے تحت پنک سالٹ (گلابی نمک) کے جی آئی کی بین الاقوامی رجسٹریشن کے لیے بھی کوششیں شروع کی ہیں۔حکومت نے پنک سالٹ کی برآمدات کے اندراج اور ضابطہ کاری کو بہتر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے ہیں۔

وزارت تجارت نے پنک سالٹ کے لیے الگ ہارمونائزڈ سسٹم (ایچ ایس) کوڈ متعارف کرانے کا معاملہ پاکستان کسٹمز اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ اٹھایا کیونکہ اس سے قبل اس مصنوعات کے لیے کوئی مخصوص کوڈ موجود نہیں تھا۔اس کے نتیجے میں پنک سالٹ کو ایچ ایس کوڈ 2501.0021 دیا گیا تاکہ اس کی برآمدات کا مناسب ریکارڈ رکھا جا سکے۔ یہ تبدیلی فنانس بل24۔2023 کے ذریعے اختیار کی گئی۔

برآمدی مرحلے پر مصنوعات کی کم قیمت ظاہر کرنے کی روک تھام کے لیے کم از کم برآمدی قیمت 130 ڈالر فی میٹرک ٹن بھی مقرر کی گئی ہے۔ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) نے گلابی چٹانی نمک کو بڑے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر فروغ دیا ہے، جن میں ورلڈ ایکسپو 2025 اوساکا میں پاکستان پویلین بھی شامل ہے، جسے اس مصنوعات کے گرد ’’یونیورس اِن اے گرین آف سالٹ‘‘ کے موضوع پر تیار کیا گیا تھا۔پویلین میں گلابی چٹانی نمک کی تنصیبات، پاکستان کے پنک سالٹ کی تاریخ سے متعلق معلومات، کھیوڑہ نمک کی کانوں سے متعلق وڈیو، ایک ڈیجیٹل انٹرایکٹو ٹیبل اور ہیلنگ گارڈن شامل تھے۔ ان نمائشوں کے ذریعے پاکستان کے ثقافتی ورثے، اقتصادی صلاحیت اور قدرتی وسائل کو بھی اجاگر کیا گیا۔

دیگر تشہیری سرگرمیوں میں فوڈ ایگ کراچی اور متحدہ عرب امارات میں گلف فوڈ، جرمنی میں انوگا، فرانس، کینیڈا اور ملائیشیا میں سیال، فوڈیکس جاپان اور ملائیشیا میں میہاس جیسی بین الاقوامی نمائشوں میں پاکستانی نمک کمپنیوں کی شرکت شامل ہے۔ ٹی ڈی اے پی نے خریداروں اور فروخت کنندگان کے درمیان ملاقاتوں، تجارتی وفود، مصنوعات کی پروفائلنگ، مارکیٹ سے متعلق معلومات اور استعداد کار بڑھانے کے پروگراموں کا بھی اہتمام کیا ہے۔

حکومت کے اقدامات کا مقصد کھیوڑہ پنک راک سالٹ کی پاکستانی شناخت کا تحفظ، برآمدی دستاویزات اور قیمتوں کے نظام کو بہتر بنانا اور بین الاقوامی سطح پر اس کی تشہیر کو وسعت دینا ہے جبکہ طویل مدتی مصنوعات سے متعلق تجارتی برانڈنگ بنیادی طور پر نجی شعبے کے مجاز صارفین کی ذمہ داری ہے۔