Tourism
World
سوئس عدالت انڈونیشیا کے جزیروں کے سیمنٹ کمپنی کے خلاف آب و ہوا کیس کی سماعت کرے گی۔
سوئس عدالت نے سیمنٹ کی بڑی کمپنی ہولسیم کے خلاف قانونی شکایت سننے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جس میں کمپنی پر کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں ناکامی کا الزام لگایا گیا ہے۔
این جی او سوئس چرچ ایڈ (HEKS/EPER)، جو شکایت کنندگان کی مدد کر رہی ہے، نے پیر کو کہا کہ عدالت نے قانونی شکایت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہولسیم نے فیصلے کی تصدیق کی اور کہا کہ وہ اپیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
یہ شکایت جنوری 2023 میں انڈونیشیا کے ایک نشیبی جزیرے پاری کے چار رہائشیوں نے درج کروائی تھی جسے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث سمندر کی سطح میں اضافے کے باعث بار بار سیلاب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیس سوئٹزرلینڈ کے شہر زوگ کی ایک عدالت میں جمع کرایا گیا جہاں ہولسیم کا ہیڈ کوارٹر ہے۔
HEKS کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے جب سوئس عدالت نے ایک بڑی کارپوریشن کے خلاف لائی گئی آب و ہوا کی قانونی چارہ جوئی کو تسلیم کیا ہے۔
اگر کامیاب ہوا، تو یہ پہلا معاملہ بھی ہوگا جس میں کسی سوئس کمپنی کو گلوبل وارمنگ میں اس کی شراکت کے لیے قانونی طور پر ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی جائے گی، گروپ نے پہلے کہا ہے۔
مقدمہ کی حمایت کرنے والے مہم چلانے والوں نے کہا کہ یہ مقدمہ گلوبل ساؤتھ میں موسمیاتی تبدیلیوں سے براہ راست متاثر ہونے والے لوگوں کے ذریعہ لائے جانے والے پہلے آب و ہوا کے مقدمات میں سے ایک ہے اور "نقصان اور نقصان” کے معاوضے کے لئے بڑھتے ہوئے دباؤ کا حصہ ہے۔
مدعیوں کی حمایت کرنے والی غیر سرکاری تنظیم نے کہا کہ Holcim کا انتخاب اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ دنیا کے سب سے بڑے کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے والے اداروں میں سے ایک ہے اور سوئٹزرلینڈ میں مقیم سب سے بڑی نام نہاد "کاربن میجر” ہے۔
HEKS کی طرف سے کمیشن کی گئی اور ریاستہائے متحدہ میں قائم کلائمیٹ اکاؤنٹیبلٹی انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق میں پتا چلا ہے کہ Holcim نے 1950 اور 2021 کے درمیان 7 بلین ٹن سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کیا – اس عرصے کے دوران کل عالمی صنعتی اخراج کا تقریباً 0.42 فیصد۔
Business
خیبرپختونخوا میں تمباکو کاشتکار بحران کا شکار، خریداروں نے خریداری مؤخر کر دی
پشاور: خیبرپختونخوا کے تمباکو پیدا کرنے والے بڑے اضلاع میں کاشتکار شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں، جہاں تمباکو کی خریداری میں تاخیر، مبینہ طور پر کم قیمت پر خریداری اور کم از کم اشاریہ قیمت (MIP) سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے مارکیٹ میں بحران پیدا کر دیا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ مقامی تمباکو کمپنیوں اور خریداروں کے ساتھ خریداری کے معاہدوں کے باوجود ان کی تیار فصل کا بڑا حصہ فروخت نہیں ہو پا رہا۔ کئی مقامی خریداروں نے تاحال متوقع پیمانے پر خریداری شروع نہیں کی، جس کے باعث کسانوں کے پاس تمباکو کے ذخائر جمع ہو رہے ہیں جبکہ پیداواری اخراجات اور مالی واجبات کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
اس صورتحال کے باعث پاکستان ٹوبیکو بورڈ (PTB) کی کارکردگی بھی زیرِ بحث آ گئی ہے۔ کاشتکار سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا موجودہ قواعد و ضوابط پر مؤثر عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور خریداری کے وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات کیے گئے ہیں یا نہیں۔
کاشتکاروں اور صنعت سے وابستہ بعض حلقوں کے مطابق کچھ مقامی خریدار اور ڈیلرز تقریباً 400 روپے فی کلوگرام کی پیشکش کر رہے ہیں، جو اس قیمت سے نمایاں طور پر کم ہے جس کی کسان کم از کم اشاریہ قیمت کے نظام کے تحت توقع کر رہے تھے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس بڑے فرق کے باعث مالی مشکلات کا شکار کسان اپنی فصل کم نرخوں پر فروخت کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں تاکہ کم از کم پیداواری لاگت کا کچھ حصہ وصول کرکے فوری مالی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
تمباکو کی خریداری میں تاخیر سے کسان پریشان
کاشتکاروں کے مطابق متعدد مقامی تمباکو کمپنیوں اور خریداروں نے، جن سے فصل کی خریداری کی توقع تھی، ابھی تک مطلوبہ سطح پر خریداری شروع نہیں کی۔
خریداری کی رفتار سست ہونے سے تمباکو پیدا کرنے والے علاقوں میں فصل کے ذخائر بڑھ رہے ہیں اور یہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ آیا موجودہ رسمی خریداری کا نظام سیزن کے دوران پیدا ہونے والی پوری فصل کو جذب کر سکے گا یا نہیں۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ تمباکو کی کاشت پر ابتدا ہی میں خاطر خواہ سرمایہ خرچ ہوتا ہے، اس لیے فصل تیار ہونے کے بعد بروقت فروخت ان کے لیے انتہائی اہم ہوتی ہے۔ خریداری میں طویل تاخیر کسانوں کی مالی مشکلات میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔
تمباکو کی قیمت پر بھی سوالات
موجودہ صورتحال میں ایک اہم مسئلہ رواں فصل کے لیے کم از کم اشاریہ قیمت (Minimum Indicative Price) اور مارکیٹ میں اس کے مؤثر نفاذ سے متعلق پایا جانے والا ابہام ہے۔
کاشتکاروں کا دعویٰ ہے کہ بعض خریدار ان کی توقع سے کہیں کم نرخوں پر تمباکو خریدنے کی پیشکش کر رہے ہیں۔ ایسے وقت میں جب متعدد کسانوں کو قرضوں، زرعی اخراجات اور آئندہ فصل کی تیاری کے لیے فوری رقم درکار ہے، کم قیمت کی پیشکش ان کی سودے بازی کی پوزیشن مزید کمزور کر رہی ہے۔
صنعت سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ کسانوں کو مجبوری میں کم نرخوں پر فصل فروخت کرنے سے بچانے کے لیے قیمتوں سے متعلق واضح اور قابلِ عمل نظام ضروری ہے۔
غیر رسمی خرید و فروخت بڑھنے کا خدشہ
کچھ کمپنیوں اور ڈیلرز کے خلاف ریگولیٹری کارروائی کے بعد مارکیٹ میں مزید بے یقینی پیدا ہوئی ہے۔
کاشتکاروں کو خدشہ ہے کہ اگر رسمی خریداری کے ذرائع محدود ہوئے اور ان کے متبادل مؤثر انتظامات نہ کیے گئے تو تمباکو کی زیادہ مقدار غیر رسمی یا پسِ پردہ لین دین کی طرف جا سکتی ہے۔
کسانوں کے مطابق ایسی صورتحال میں ان کی سودے بازی کی طاقت مزید کم ہو جاتی ہے اور وہ کم قیمت پر فصل خریدنے والے مڈل مین اور ڈیلرز کے سامنے زیادہ غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔
غیر رسمی تجارت میں اضافہ ان قانونی اور باقاعدہ کمپنیوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتا ہے جو ریگولیٹری فریم ورک کے تحت کام کر رہی ہیں، کیونکہ غیر یکساں عملدرآمد سے مارکیٹ میں مسابقت متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
پاکستان ٹوبیکو بورڈ سے فوری اقدامات کا مطالبہ
کاشتکاروں اور صنعت سے وابستہ حلقوں نے پاکستان ٹوبیکو بورڈ اور متعلقہ حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مارکیٹ میں اعتماد بحال کیا جا سکے۔
ان کے مطالبات میں قابلِ اطلاق کم از کم اشاریہ قیمت سے متعلق واضح پالیسی، رجسٹرڈ خریداروں سے خریداری کے وعدوں اور معاہدوں پر عملدرآمد، اضافی تمباکو کی پیداوار کے لیے قابلِ عمل طریقہ کار اور مقررہ قیمت سے کم نرخوں پر مبینہ خریداری کے خلاف مؤثر اقدامات شامل ہیں۔
موجودہ تنازع کا بنیادی سوال صرف تمباکو کی قیمت تک محدود نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ آیا موجودہ ریگولیٹری نظام کاشتکاروں کے ساتھ کیے گئے خریداری کے وعدوں پر عملی طور پر عملدرآمد یقینی بنا سکتا ہے۔
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں محض پالیسی اعلانات نہیں بلکہ ایسا مؤثر خریداری نظام درکار ہے جو خریداروں تک بروقت رسائی، قیمتوں میں شفافیت اور مالی مجبوری کے باعث کم نرخوں پر فصل فروخت کرنے سے تحفظ فراہم کرے۔
خیبرپختونخوا کے تمباکو پیدا کرنے والے علاقوں میں فصل کے ذخائر بڑھنے اور کسانوں پر مالی دباؤ میں اضافے کے باعث کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ مزید نقصان سے بچنے اور مارکیٹ میں استحکام بحال کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کی بروقت مداخلت ناگزیر ہو چکی ہے۔
