اسلام آباد۔1 جون (اے بی سی):آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے 2023 سے اب تک سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تیل و گیس کے 19 نئے ذخائر دریافت کیے ہیں، جو پاکستان کی توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور مہنگے ایندھن کی درآمدات پر انحصار کم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ان دریافتوں سے یومیہ تقریباً 17,123 بیرل تیل اور 151 ملین معیاری مکعب فٹ (ایم ایم ایس سی ایف ڈی) گیس پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت حاصل ہونے کی توقع ہے۔ ان ذخائر کے باعث درآمدی ایندھن کے متبادل کی صورت میں تقریباً 1.2 ارب روپے یومیہ بچت متوقع ہے۔مالی سال24۔ 2023 کے دوران پانچ نئی دریافتیں کی گئیں جن سے 481 بیرل یومیہ تیل اور 29.66 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس کی پیداوار کی صلاحیت حاصل ہوئی، جبکہ درآمدی اخراجات میں یومیہ 28 کروڑ 34 لاکھ 80 ہزار روپے کی کمی کا امکان پیدا ہوا۔

مالی سال25۔ 2024 میں مزید پانچ دریافتوں سے 947 بیرل یومیہ تیل اور 34.49 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا، جس سے درآمدی اخراجات میں روزانہ تقریباً 27 کروڑ 97 لاکھ روپے کی بچت متوقع ہے۔مالی سال26۔ 2025 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران او جی ڈی سی ایل نے تلاش و دریافت کی سرگرمیوں میں تیزی لاتے ہوئے مزید نو ذخائر دریافت کیے، جن سے 15,695 بیرل یومیہ تیل اور 86.95 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس حاصل ہونے کی توقع ہے۔ ان دریافتوں کے نتیجے میں روزانہ تقریباً 63 کروڑ 34 لاکھ 50 ہزار روپے کی درآمدی بچت ممکن ہوگی۔اہم دریافتوں میں باراغزئی ایکس-01 میں مختلف پیداواری زونز سے حاصل ہونے والی ہائیڈروکاربن دریافت نمایاں رہی، جہاں آزمائشی پیداوار کے مطابق تقریباً 15,005 بیرل یومیہ تیل اور 45.36 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس پیدا کرنے کی صلاحیت سامنے آئی۔

کمپنی نے اپنے ریزرو ری پلیسمنٹ ریشو (آر آر آر) میں بھی مسلسل بہتری ریکارڈ کی، جو پیداوار کے مقابلے میں ذخائر میں اضافے کا اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ شرح مالی سال 24۔2023میں 56 فیصد تھی، جو مالی سال25۔2024میں بڑھ کر 167 فیصد ہوگئی، جبکہ مالی سال 26۔2025 کے ابتدائی نو ماہ کے دوران 153 فیصد پر برقرار رہی۔اس پیش رفت کے نتیجے میں 31 مارچ 2026 تک او جی ڈی سی ایل کے ذخائر کی متوقع مدت 14 سال سے بڑھ کر 17 سال ہو گئی، جس سے کمپنی کے ہائیڈروکاربن وسائل کی پائیداری میں تین سال کا اضافہ ہوا ہے۔

دستاویزات کے مطابق کمپنی نے اس عرصے کے دوران دریافت شدہ وسائل کو تجارتی بنیادوں پر استعمال میں لانے اور پیداوار بڑھانے کے لیے 34 کنوؤں اور فیلڈز کو بھی پیداوار میں شامل کیا۔مالی سال 23۔2022میں پانچ کنوؤں کو پیداوار سے منسلک کیا گیا، جن سے 990 بیرل یومیہ تیل اور 18.28 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس حاصل ہوئی۔

مالی سال 24۔2023میں 11 کنوؤں نے 4,398 بیرل یومیہ تیل اور 43.23 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس کا اضافہ کیا، جبکہ مالی سال25۔2024میں آٹھ کنوؤں سے 744 بیرل یومیہ تیل اور 41.80 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس پیداوار میں شامل ہوئی۔مالی سال 26۔2025میں اپریل تک مزید 11 کنوؤں کو پیداوار میں لایا گیا، جن سے 9,734 بیرل یومیہ تیل اور 74.25 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس حاصل ہونے کا تخمینہ ہے۔

او جی ڈی سی ایل نے پیداوار بڑھانے کے لیے مختلف فیلڈز میں 65 سے زائد رگ ورک اوورز اور 295 سے زیادہ رگ لیس مداخلتیں بھی انجام دیں، جن کے نتیجے میں تقریباً 17,000 بیرل یومیہ اضافی تیل اور 90 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ اضافی گیس کی پیداوار حاصل ہوئی۔