اسلام آباد۔24مئی (اے پی پی):پاکستان نے مقامی سطح پر تیل دار اجناس کی پیداوار اور زیتون کی کاشت میں توسیع کے ذریعے درآمدی خوردنی تیل پر انحصار کم کرنے اور 2035 تک 70 فیصد خود کفالت حاصل کرنے کیلئے ایک اسٹریٹجک منصوبہ تیار کر لیا ہے۔وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے مطابق پاکستان آئل سیڈ ڈیپارٹمنٹ نے 2035 تک ملکی پیداوار کے ذریعے خوردنی تیل کی 70 فیصد ضروریات پوری کرنے کیلئے ایک اسٹریٹجک ترقیاتی منصوبہ تیار کیا ہے۔منصوبہ کے تحت 2035 تک سالانہ خوردنی تیل کی پیداوار اور درآمدی متبادل کو 4.578 ملین ٹن سے زیادہ تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مالی لحاظ سے اس اقدام سے سالانہ 7.017 ارب ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے۔پاکستان اس وقت بھی خوردنی تیل کی ضروریات پوری کرنے کیلئے درآمدات پر بڑی حد تک انحصار کرتا ہے۔

مالی سال25 ۔ 2024 کے دوران پاکستان نے 4.169 ملین ٹن خوردنی تیل درآمد کیا، جس میں درآمدی تیل دار اجناس سے حاصل ہونے والے 0.542 ملین ٹن تیل بھی شامل تھا۔ ان درآمدات کی مالیت 1,407 ارب روپے یا 4.971 ارب ڈالر رہی۔اس کے مقابلے میں مالی سال25- 2024 کے دوران مقامی خوردنی تیل کی پیداوار 0.474 ملین ٹن رہی جبکہ درآمدات اور مقامی پیداوار سمیت مجموعی دستیابی 4.643 ملین ٹن تک پہنچ گئی۔وزارت کے مطابق اس شعبے کی معاونت کیلئے دو بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں ’’نیشنل آئل سیڈ انہانسمنٹ پروگرام‘‘ اور ’’پاکستان میں تجارتی بنیادوں پر زیتون کی کاشت کے فروغ کا دوسرا مرحلہ‘‘ شامل ہیں۔طویل مدتی منصوبے کے تحت 2035 تک تیل دار اجناس کے زیر کاشت رقبے کو 1.240 ملین ہیکٹر سے بڑھا کر 4.600 ملین ہیکٹر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اسی منصوبے کے تحت 2035 تک تیل دار اجناس کی پروسیسنگ اور پیداوار میں بہتری کیلئے ایک ہزار منی ایکسپیلرز اور 1500 زرعی مشینوں کی تنصیب بھی تجویز کی گئی ہے۔پاکستان آئل سیڈ ڈیپارٹمنٹ نے سورج مکھی، کینولا اور زیتون کی کاشت کے فروغ کیلئے مختلف مقامات پر آگاہی مہمات بھی چلائیں۔ ادارہ نے صوبائی حکومتوں کے تعاون سے تیل دار فصلوں اور تیل پیدا کرنے والے پودوں کے فروغ کیلئے اقدامات کیے تاکہ درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے۔خوردنی تیل کی مجموعی حکمت عملی کے تحت زیتون کے شعبے کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ مالی سال 2024-25 کے دوران مختلف منصوبہ جاتی اجزا کے تحت 822,452 زیتون کی قلمیں لگائی گئیں تاکہ خالص نسل اور بیماریوں سے پاک پودوں کی افزائش ممکن بنائی جا سکے۔بلوچستان میں بلوچستان زرعی تحقیق و ترقیاتی مرکز کے منصوبے کے تحت مختلف اضلاع میں 108,859 زیتون کے پودے لگائے گئے، جن میں کسانوں نے 33 فیصد لاگت برداشت کی۔

اسی طرح صوبے کے مختلف اضلاع میں 737 ایکڑ رقبے پر ڈرِپ آبپاشی نظام بھی نصب کیا گیا۔سالانہ کتاب کے مطابق زیتون کی کاشت، باغات اور نرسریوں کے انتظام، ویلیو ایڈیشن، تیل کی پراسیسنگ اور زیتون کی ویلیو چین سے متعلق دیگر امور پر 45 تربیتی پروگرام منعقد کیے گئے۔ ان پروگراموں میں نوجوانوں اور خواتین سمیت مجموعی طور پر 2,684 افراد نے شرکت کی۔

وزارت قومی غذائی تحفظ وتحقیق نے منصوبہ میں بین الاقوامی تعاون کے شعبے میں پیش رفت کا بھی ذکر کیا ہے۔ پیشہ ورانہ استعداد کار اور زرعی توسیعی خدمات سے متعلق 20 ملین یورو مالیت کے ٹی وی ای ٹی امبریلا منصوبے کی سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی منظوری دے چکی ہے۔ اس منصو بہ کے تحت زیتون اور دیگر پھلدار فصلوں کے شعبوں میں تکنیکی تربیت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر توجہ دی جائے گی۔