سندھ کے 23 اضلاع میں فضائی معیار کی نگرانی کے مراکز قائم کرنے کا منصوبہسندھ کے 23 اضلاع میں فضائی معیار کی نگرانی کے مراکز قائم کرنے کا منصوبہ

اسلام آباد۔27اکتوبر (اے بی سی):سندھ حکومت نے عالمی بینک کے پاکستان کے لیے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) کے تحت صوبے کے 23 اضلاع میں فضائی معیار کی نگرانی کے مراکز قائم کرنے کے لیے 70 لاکھ ڈالر کا منصوبہ تجویز کیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق ’’سندھ کے 23 اضلاع میں فضائی معیار کے انتظام کو بہتر بنانے کے لیے نگرانی کے نظام کا قیام‘‘ کے عنوان سے مجوزہ منصوبے کا مقصد فضائی آلودگی کی نگرانی کے لیے صوبے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا، ماحول سے متعلق قابل اعتماد اور فوری اعدادوشمار حاصل کرنا اور فضائی معیار میں بگاڑ سے نمٹنے کے لیے ٹھوس شواہد پر مبنی اقدامات کی معاونت کرنا ہے۔

دستاویزات کے مطابق منصوبے کے تحت فضائی معیار کی مسلسل نگرانی کرنے والے 23 مراکز کی تنصیب اور انہیں فعال بنانے کے ساتھ ساتھ فوری معلومات فراہم کرنے والے نگرانی کے نظام اور متعلقہ تکنیکی معاونتی سہولیات کی تیاری کی تجویز ہے۔منصوبے کی تخمینی لاگت 70 لاکھ ڈالر ہے، جبکہ سندھ کا محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی اس پر عمل درآمد کا مرکزی ذمہ دار ادارہ ہوگا اور ضلعی انتظامیہ مجوزہ اقدام میں شراکت دار ہوگی۔ منصوبے کے تحت نگرانی کے مراکز کو فضائی آلودگی پیدا کرنے والے اہم عناصر کی پیمائش کے آلات سے لیس کیا جائے گا، جن میں کاربن مونو آکسائیڈ ،نائٹروجن آکسائیڈز،سلفر ڈائی آکسائیڈ ،فضا میں موجود باریک ذرات ،معلق ذرات ، اور زمینی سطح پر موجود اوزون شامل ہیں ۔

آلودگی پیدا کرنے والے عناصر کی پیمائش کے علاوہ مجوزہ نظام موسمیاتی عوامل سے متعلق اعدادوشمار بھی ریکارڈ کرے گا تاکہ سندھ بھر میں فضائی معیار کی صورتحال کا زیادہ جامع جائزہ لیا جا سکے۔منصوبے میں آلات کی درست پیمائش کو یقینی بنانے، اعدادوشمار کے معیار کی جانچ، معلومات کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے اور تکنیکی معاونتی نظام کے انتظامات بھی شامل ہیں تاکہ فضائی معیار کی نگرانی کے عمل میں تسلسل اور حاصل ہونے والی معلومات کی قابل اعتمادی یقینی بنائی جا سکے۔دستاویزات کے مطابق کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں فضائی معیار کی مسلسل نگرانی کے موجودہ نظام (سی اے اے کیو ایم ایس) کی ایک اسکیم پہلے ہی شروع کی جا چکی ہے۔ تاہم باقی اضلاع میں نگرانی کے بنیادی ڈھانچے کی تنصیب کی ضرورت ہے۔

مجوزہ توسیع کا مقصد ان کمیوں کو دور کرتے ہوئے صوبے بھر میں نگرانی کا ایک وسیع نظام قائم کرنا ہے، جو فضائی معیار سے متعلق مستقل بنیادوں پر قابل اعتماد اور فوری اعدادوشمار فراہم کر سکے۔دستاویزات کے مطابق اس اقدام کا ایک اہم مقصد پاکستان کے قومی سطح پر طے شدہ ماحولیاتی اہداف (این ڈی سیز) کی نگرانی اور ان پر پیش رفت کا جائزہ لینے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے، خصوصاً ایسے اہداف جو نقصان دہ گیسوں کے اخراج میں کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے سے متعلق ہیں۔توقع ہے کہ فضائی آلودگی کے قابل اعتماد اعدادوشمار کی دستیابی سے نقصان دہ گیسوں کے اخراج میں کمی کی منصوبہ بندی، ماحولیاتی پالیسیوں کی تیاری اور موسمیاتی وعدوں پر پیش رفت کے جائزے کے لیے مضبوط تکنیکی بنیاد فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

دستاویزات میں فضائی آلودگی پیدا کرنے والے عناصر کی منظم نگرانی کے ذریعے صحت عامہ کو لاحق خطرات کا بہتر اندازہ لگانے اور پیشگی خبردار کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ایسی معلومات متعلقہ حکام کو فضائی آلودگی کے رجحانات کی نشاندہی، آلودگی سے متاثر ہونے کے خطرات کا جائزہ لینے اور زیادہ فضائی آلودگی والے علاقوں میں مخصوص اقدامات وضع کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔مجوزہ منصوبے کا ایک اور اہم حصہ طویل مدتی دیکھ بھال اور ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے کے انتظامات کرنا ہے تاکہ ابتدائی تنصیب کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد بھی فضائی معیار کی نگرانی کا نظام فعال رہے۔