Nilosigna Green Medicine

راولپنڈی/لاہور: پنجاب میں خون کے سرطان کی ایک مخصوص قسم کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوا نیلوٹینیب کی سرکاری سطح پر مفت فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات کے بعد مریضوں اور ان کے اہل خانہ میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ یہ دوا کرونک مائیلوئڈ لیوکیمیا، یعنی سی ایم ایل، کے مریضوں کو ماہر ڈاکٹر کی نگرانی میں طویل عرصے تک دی جاتی ہے، اس لیے اس کی فراہمی میں تعطل علاج کے تسلسل کے حوالے سے سنجیدہ مسئلہ بن سکتا ہے۔

نیلوٹینیب ایک ٹارگٹڈ تھیراپی ہے جو بالخصوص فلاڈیلفیا کروموسوم پازیٹو سی ایم ایل کے علاج میں استعمال ہوتی ہے۔ بعض مریضوں میں اسے ابتدائی علاج کے طور پر جبکہ بعض میں امیٹینیب کے مؤثر نہ رہنے یا برداشت نہ ہونے کی صورت میں تجویز کیا جاتا ہے۔

مریضوں اور ان کے خاندانوں کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں اس دوا کے حصول میں مشکلات کی شکایات سامنے آئی ہیں، جبکہ بعض افراد کا کہنا ہے کہ تقریباً دو ماہ سے فراہمی معمول کے مطابق نہیں رہی۔ تاہم پنجاب کے صحت حکام کی جانب سے تاحال اس ممکنہ قلت کے حجم، اصل وجہ یا بحالی کے واضح شیڈول سے متعلق کوئی جامع عوامی وضاحت سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی واضح نہیں کہ موجودہ تعطل خریداری کے عمل، تیاری، معیار کی جانچ، سپلائی کنٹریکٹ یا ہسپتالوں تک ترسیل میں کسی مسئلے کے باعث پیدا ہوا ہے۔

ایک دہائی سے جاری مفت علاج پروگرام

پنجاب حکومت نے 2014 میں سی ایم ایل فری ٹریٹمنٹ پروجیکٹ شروع کیا تھا جس کے تحت رجسٹرڈ مریضوں کو مہنگی کینسر ادویات بلا معاوضہ فراہم کی جاتی تھیں۔

2015 تک اس پروگرام میں تقریباً 1,800 مریض رجسٹر ہو چکے تھے، جبکہ 2017 تک یہ تعداد 3,100 سے تجاوز کر گئی۔

اس پروگرام کے تحت پنجاب کے مختلف بڑے سرکاری ہسپتالوں کو علاج کے مراکز کے طور پر شامل کیا گیا، جن میں ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی، جناح ہسپتال لاہور، الائیڈ ہسپتال فیصل آباد اور نشتر ہسپتال ملتان شامل تھے۔ بعد میں میو ہسپتال لاہور بھی اس پروگرام کا اہم مرکز بن گیا۔

راولپنڈی اور گردونواح کے مریضوں کے لیے ہولی فیملی ہسپتال طویل عرصے سے اہم مرکز رہا ہے جہاں سی ایم ایل کے مریضوں کو علاج اور ادویات فراہم کی جاتی رہی ہیں۔

نیلوٹینیب کیوں اہم ہے؟

نیلوٹینیب عام نوعیت کی کینسر دوا نہیں بلکہ ایک مخصوص ٹارگٹڈ دوا ہے جو سی ایم ایل کے مخصوص مریضوں میں استعمال ہوتی ہے۔

یہ دوا کینسر کے خلیات کی غیر معمولی افزائش کو بڑھانے والے سگنلز کو روکنے میں مدد دیتی ہے۔ چونکہ سی ایم ایل کا علاج اکثر کئی سال تک جاری رہتا ہے، اس لیے مریضوں کو اپنی دوا باقاعدگی سے جاری رکھنا پڑ سکتی ہے۔

اسی وجہ سے دوا کی فراہمی میں طویل وقفہ مریضوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق مریضوں کو دوا خود سے بند، کم یا تبدیل نہیں کرنی چاہیے بلکہ کسی بھی رکاوٹ کی صورت میں اپنے ہیماتولوجسٹ یا آنکولوجسٹ سے مشورہ کرنا چاہیے۔

ماضی میں بھی ہزاروں مریض متاثر ہوئے

یہ پہلا موقع نہیں کہ پنجاب کے سی ایم ایل پروگرام میں ادویات کی فراہمی متاثر ہوئی ہو۔

پروگرام سے متعلق ابتدائی معاہدہ جون 2020 میں ختم ہونے کے بعد 2021 میں تجدید کے عمل میں تاخیر کے باعث پانچ ہزار سے زائد رجسٹرڈ مریضوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

اس بحران نے واضح کیا تھا کہ بڑی تعداد میں ایسے مریض موجود ہیں جو مہنگی کینسر ادویات کے لیے مکمل طور پر سرکاری پروگرام پر انحصار کرتے ہیں۔

2025 کے دوران بھی پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں بعض کینسر ادویات کی قلت کی شکایات سامنے آئیں اور ہزاروں رجسٹرڈ مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پنجاب نے مسابقتی خریداری کا طریقہ اختیار کیا

حالیہ سرکاری ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت نے نیلوٹینیب سمیت سی ایم ایل کی ادویات کی خریداری کے لیے مسابقتی ٹینڈرنگ کا طریقہ اختیار کیا۔

مالی سال 2025-26 کے لیے اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے نیلوٹینیب 200 ملی گرام کی خریداری کے لیے بولیاں طلب کیں۔

اس عمل میں آنکوجن فارما، نوارٹس فارما پاکستان اور ہمل فارماسیوٹیکلز سمیت مختلف کمپنیوں نے حصہ لیا۔

سرکاری بولی کھولنے کے ریکارڈ کے مطابق آنکوجن فارما نے 200 ملی گرام نیلوٹینیب کے لیے سب سے کم قیمت پیش کی۔

خریداری کے اس عمل کے دوران اہلیت اور جنیرک نیلوٹینیب کے پیٹنٹ کی حیثیت سے متعلق اعتراضات بھی سامنے آئے، جن پر متعلقہ محکمے کے گریوینس ریڈریسل میکنزم نے غور کیا۔

یہ صورتحال موجودہ فراہمی میں ممکنہ تعطل کی اصل وجہ جاننے کی اہمیت مزید بڑھا دیتی ہے۔

نجی خریداری بیشتر خاندانوں کے لیے مشکل

سرکاری فراہمی رکنے کی صورت میں مریضوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ دوا کی قیمت بن جاتی ہے۔

نیلوٹینیب پاکستان میں مہنگی ادویات میں شمار ہوتی ہے اور برانڈ، طاقت اور پیک سائز کے لحاظ سے اس کی قیمت کئی ہزار سے لے کر دسیوں ہزار روپے تک جا سکتی ہے۔

ایسے خاندان جو برسوں سے یہ دوا سرکاری پروگرام کے تحت مفت حاصل کر رہے ہوں، ان کے لیے مسلسل نجی خریداری ایک بڑا مالی بوجھ بن سکتی ہے۔

اسی لیے پنجاب کا مفت سی ایم ایل پروگرام صرف ایک فلاحی سہولت نہیں بلکہ بہت سے مریضوں کے لیے علاج جاری رکھنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔

مریضوں کو واضح جواب درکار

موجودہ صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پنجاب کے نامزد سی ایم ایل مراکز میں نیلوٹینیب کا موجودہ اسٹاک کتنا ہے، کتنے مریض دوا کے منتظر ہیں اور نئی سپلائی کب تک بحال ہونے کی توقع ہے۔

محکمہ صحت کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی سمیت دیگر مراکز میں دوا کی دستیابی کی موجودہ صورتحال کیا ہے اور آیا سپلائرز کی جانب سے کوئی آرڈر زیر التوا ہے۔

کینسر کے مریضوں کے لیے یہ معاملہ محض خریداری یا فائل ورک تک محدود نہیں۔

ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ اگلی خوراک وقت پر دستیاب ہوگی یا نہیں۔

جب تک حکومت موجودہ اسٹاک، سپلائی کی صورتحال اور بحالی کے واضح ٹائم لائن سے متعلق مکمل معلومات فراہم نہیں کرتی، مریض اور ان کے خاندان غیر یقینی صورتحال میں رہیں گے۔