لاہور۔11مئی (اے بی سی):چینی کمپنی ڈونگ جن گروپ کی جانب سے علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی میں ڈرائی بیٹری مینوفیکچرنگ پلانٹ کے قیام سے پاکستان میں بیٹریوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے جس میں الیکٹرک گاڑیوں اور سولر انرجی سسٹمز کے پھیلاؤ کا اہم کردار ہے۔کمپنی نے حال ہی میں فیصل آباد کے قریب سپیشل اکنامک زون میں قائم کئے جانے والے اس پلانٹ میں 15 ملین ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔ سرمایہ کاری کے معاہدے پر پنجاب بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ (پی بی آئی ٹی) کے ساتھ دستخط کئے گئے۔
ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے پی بی آئی ٹی کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ شرقی علی ٹیپو نے کہا کہ کمپنی نے پاکستان میں بیٹریوں کی بڑھتی ہوئی طلب خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں اور سولر انرجی سلوشنز کے تیزی سے فروغ کو دیکھتے ہوئے یہ پلانٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے متعدد شعبوں میں معاشی اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا جبکہ جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی ممکن ہو سکے گی۔
ان کے مطابق یہ منصوبہ الیکٹرانکس، آٹو موٹیو پارٹس، پیکیجنگ، کیمیکلز اور انجینئرنگ سپورٹ سروسز سمیت دیگر متعلقہ صنعتوں کو بھی تقویت دے گا جبکہ فیصل آباد اور گردونواح میں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔شرقی علی ٹیپو نے بتایا کہ علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت قائم کئے گئے پاکستان کے نمایاں سپیشل اکنامک زونز میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ زون جدید انفراسٹرکچر، بہتر رابطہ کاری اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کی بدولت جدید صنعتی منصوبوں کے لئے پرکشش حیثیت رکھتا ہے۔
پاکستان کے سپیشل اکنامک زونز کے مراعاتی پیکیج کے تحت کمپنی کو 10 سال کے لئے انکم ٹیکس میں چھوٹ اور پلانٹ و مشینری کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسز سے ایک مرتبہ استثنیٰ حاصل ہوگا۔پی بی آئی ٹی کے عہدیدار نے کہا کہ بورڈ سرمایہ کاری کے پورے عمل میں کمپنی کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔آٹو اور سولر شعبوں سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید بیٹری مینوفیکچرنگ سہولیات کے قیام سے خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں اور سولر انرجی سسٹمز کے لئے پاکستان میں بیٹریوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔
ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے سابق چیئرمین الماس حیدر نے کہا کہ پاکستان توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے اور درآمدی انحصار کم کرنے کے لئے لیتھیم آئن بیٹری مینوفیکچرنگ کو مقامی سطح پر فروغ دینے کی جانب بڑھ رہا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ حال ہی میں متعارف کرائی گئی بیٹری مینوفیکچرنگ پالیسی 2026-31 اس شعبے میں مقامی پیداوار اور نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے گی۔
الماس حیدر نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرک گاڑیوں اور گرڈ استحکام سے وابستہ بڑھتی ہوئی عالمی طلب کے باعث بیٹریاں سٹریٹجک اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جتنی زیادہ بیٹری پیداوار ہوگی، اتنے ہی زیادہ امکانات ہوں گے کہ مہنگی بجلی اور درآمدی فوسل فیولز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
