پشاور: شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی پشاور میں ایک اور پی ایچ ڈی تحقیقی مقالہ کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ہے، جس میں ورچوئل ریئلٹی پر مبنی اور روایتی نفسیاتی علاج کے طریقوں کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
یہ تحقیق شعبہ نفسیات میں ڈاکٹر امِ کلثوم کی نگرانی میں مکمل ہوئی، جسے ذہنی امراض کے علاج کے جدید اور مؤثر طریقوں کی سمت ایک اہم تعلیمی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
پی ایچ ڈی اسکالر زینب وحید نے اپنا تحقیقی مقالہ بعنوان “جنرلائزڈ اینگزائٹی ڈس آرڈر کے مریضوں میں ورچوئل ریئلٹی بیسڈ اور روایتی ایکسیپٹنس اینڈ کمٹمنٹ تھیراپی (ACT) کی مؤثریت کا تقابلی جائزہ” کامیابی سے دفاع کیا۔
اس مقالے کا خارجی امتحان ڈاکٹر عظمیٰ علی نے لیا۔
تحقیق میں ورچوئل ریئلٹی بیسڈ ACT اور روایتی ACT کے اثرات کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا، جس میں جنرلائزڈ اینگزائٹی ڈس آرڈر کے مریضوں پر دونوں طریقۂ علاج کے نتائج کا تفصیلی تجزیہ شامل تھا۔
محققین کے مطابق یہ نتائج ذہنی صحت کے شعبے میں جدید اور مؤثر علاجی طریقوں کی ترقی کے لیے ایک اہم پیش رفت ہیں، جو مریضوں کی بہتر دیکھ بھال اور علاج کے نئے امکانات کو اجاگر کرتے ہیں۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ یہ ایک اور کامیاب پی ایچ ڈی ہے جو ڈاکٹر امِ کلثوم کی نگرانی میں مکمل ہوئی، جو ان کی علمی رہنمائی، تحقیقی معیار اور شعبہ نفسیات میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔
اختتامی تقریب میں فیکلٹی ممبران، محققین اور شرکاء نے ڈاکٹر امِ کلثوم اور زینب وحید کو اس علمی کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔
