سدھنوتی، اۤزاد کشمیر (22 اپریل) : ادارہ خواراک و زراعت اقوام متحدہ پاکستان ( ایف اے او) نے محکمہ جنگلات، جنگلی حیات و ماہی گیری کے اشتراک سے ” پہاڑی علاقوں میں قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام ” کے عنوان سے ایک
ایک اسٹیک ہولڈر مشاورتی ورکشاپ منعقد کی۔ ورکشاپ میں سرکاری حکام، تکنیکی ماہرین اور کمیونٹی نمائندگان نے شرکت کی اور ماحولیاتی خطرات، کمزوریوں اور پائیدار حل پر تبادلۂ خیال کیا۔
یہ مشاورتی ورکشاپ پہاڑی علاقوں میں مقیم آبادی کو درپیش موسمیاتی تبدیلی، زمین کی زبوں حالی اور معاشی دباؤ سے پیدا ہونے والے خطرات کو بہتر طور پر سمجھنے اور شواہد پر مبنی منصوبہ بندی کو فروغ دینے کے لیے منعقد کی گئی۔ یہ منصوبہ ایف اے او کے ماؤنٹین پارٹنرشپ سیکریٹریٹ کے تحت اور حکومتِ اٹلی کے مالی تعاون سے نافذ کیا جا رہا ہے۔
پروگرام کا آغاز احسان الحق، ڈویژنل فاریسٹ آفیسر سدھنوتی کے استقبالیہ کلمات سے ہوا۔ منصوبے کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چونکہ ہماری برادریاں قدرتی وسائل پر انحصار کرتی ہیں، اس لیے ان کے پائیدار تحفظ اور بہتر انتظام کو یقینی بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
افتتاحی کلمات سردار عمر فاروق، ڈپٹی کمشنر سدھنوتی نے ادا کیے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ سدھنوتی آزاد جموں و کشمیر کے اُن اضلاع میں شامل ہے جہاں جنگلاتی رقبہ نسبتاً زیادہ ہے، تاہم یہ علاقہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ترقیاتی منصوبے، آبادی میں اضافہ، ایندھن اور لکڑی کے لیے جنگلات پر انحصار، متبادل توانائی کے ذرائع کی کمی اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے مسائل سنگین ماحولیاتی چیلنجز بن چکے ہیں۔ انہوں نے وسیع پیمانے پر شجرکاری اور جنگلات کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا، محکمہ جنگلات کی شجرکاری سے متعلق کاوشوں کو سراہا، اس نشست کو بروقت قرار دیا اور ماحولیاتی پائیداری سے متعلق اقدامات کے لیے اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔
وقاص اعوان (ایف اے او پاکستان) نے منصوبے کا تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اقدام ادارہ جاتی اور تکنیکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، ماحولیاتی اور سماجی و معاشی کمزوریوں کا تجزیہ کرنے، اور خاص طور پر موسمیاتی تبدیلی اور زمین کی زبوں حالی سے جڑے خطرات کو سمجھنے پر مرکوز ہے۔ اس موقع پر اویس جاوید، ، ڈویژنل فاریسٹ آفیسر، مظفراۤباد نے ماحولیاتی خطرات پر ایک تفصیلی تکنیکی پریزنٹیشن دی، جس میں مقامی سطح پر موجود خطرات اور ان کے تدارک کے ممکنہ اقدامات پر روشنی ڈالی گئی۔
کھلے مباحثے اور سوال و جواب کے سیشن کے دوران شرکاء نے ماحولیاتی مسائل اور عملی حل کے حوالے سے اپنی آراء اور تجربات کا تبادلہ کیا۔ بعد ازاں سوالناموں کے ذریعے ڈیٹا جمع کیا گیا تاکہ ذیلی قومی سطح پر خطرات کے تجزیے میں معاونت کی جا سکے۔
تقریب کا اختتام محکمہ جنگلات، جنگلی حیات و ماہی گیری اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اختتامی کلمات اور اظہارِ تشکر کے ساتھ ہوا، جس میں قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال، ماحولیاتی تحفظ اور دیہی معاشی استحکام کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
